نئی دہلی22 اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) د سہرے کے دن ہوئے امرتسر میں ہوئے ٹرین حادثے کے بعد الزامات جھیل رہے پنجاب حکومت میں وزیر نوجوت سدھو نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ جو بچے یتیم ہوئے ہیں ان کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ سدھو نے تاعمر ان خاندانوں کا خرچ اٹھانے کی بات کی ہے جن خاندانوں میں اب کوئی کمانے والا نہیں بچا۔
سدھو نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں ایک وعدہ کیا تھا کہ گرو کی زمین امرتسر ہی سے الیکشن لڑیں گے اور آج دوسرا وعدہ کر رہے ہیں کہ اب یتیم ہوئے خاندانوں کی کفالت وہ کریں گے ۔سدھو نے کہا کہ ریلوے کو جانچ پڑتال کرنے کی نہیں ،کلین چٹ دینے کی جلدی تھی۔ ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود پنجاب کانگریس کے صدر سنیل جاکھڑ نے الزام لگایا کہ ریلوے نے ثبوتوں کو مٹا دیا ہے ۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پھاٹک سے 200 میٹر دور دسہرہ منایا جا رہا تھا، یہ گیٹ مین کو کیوں نہیں دکھا؟ 10 منٹ پہلے وہاں سے گزری ایک ٹرین سست رفتار سے نکل سکتی ہے تو دوسری کیوں نہیں؟ ڈرائیور کو کس بات کی جلدی تھی؟ وہ اتنی سپیڈ میں کیوں بھاگے جا رہا تھا؟ ایمرجنسی بریک کس طرح لگائے گئے کہ ٹرین رکی ہی نہیں۔اس سوال پر کہ جن خاندانوں کے لوگ مارے گئے ہیں ان کا اب کیا ہوگا؟ پنجاب کانگریس حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ ان کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ جو بچے یتیم ہو گئے ہیں ان کو پڑھانے کی ذمہ داری میری ہے۔ جس خاندانوں میں کوئی کمانے والا نہیں رہ گیا ہے اس کے خاندان میں ہر روز چولہا جلے گا اس کا ’وچن ‘دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ امرتسر میری بیوی کی اور میری’کرم بھومی‘ ہے۔ یہ لوگوں کی محبت ہے جس نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا ہے۔ سدھو نے کہا کہ جمعرات کی سرزمین پر وہ ’’وچن ‘‘ دیتے ہیں کہ کسی بھی خاندان کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا نہیں ہونے دیں گے۔پنجاب کانگریس کے صدر سنیل جاکھڑ نے کہا کہ’’دعائیہ جلسہ ‘‘ کے اختتام کے بعد وہ پرکاش سنگھ بادل اور سکھبیر سنگھ بادل کے سوالات کا جواب دیں گے۔
جاکھڑ نے کہا کہ مرکزی حکومت پر ترس آتا ہے کہ وہ بلٹ ٹرین چلانے کی بات کرتی ہے لیکن ڈی اے یو بھی نہیں چلا پا رہی ہے۔ جاکھڑ نے کہا کہ کیپٹن امریندر کی حکومت نے بھی مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کو نوکری دینے کی بات ہے۔ حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ قابلیت کو دیکھتے ہوئے کس کو کون سی نوکری دی جائے۔ انہوں نے پرکاش سنگھ بادل پر بھی سوال اٹھائے کہ اسٹنگ جج کسی جانچ کمیٹی کی صدارت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا انہیں معلوم ہے ، وہ یہ کہ اسٹنگ جج کسی جانچ کمیٹی کا صدر ہو ہی نہیں سکتا۔ واضح ہو کہ بادل نے اس حادثہ کی تفتیش کے لیے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جج سے کرانے کی مانگ کی تھی۔